" یہ چرچا نہیں ہے،حقیقت ہے"
جامعہ کراچی میں اکثر و بیشتر جب کبھی ٹرمینل کے سامنے سے گزرنا ہوتا تو حیرت ہوتی ،ایک دکان پے اتنا رش دیکھ کر! ایسا لگتا جیسے مفت میں کو ئی چیز بٹ رہی ہو ۔ آخر کار فیصلہ کیا اور پہنچے اس دکان پے تو پتاچلا کہ یہ توجوس اور شیک کی دکان ہے۔اور پھر یاد آگیاکہ جامعہ کراچی میں آنے سے پہلے جس" ٹرمینل کے شیک" کا نام سنا تھا یہ وہی جوس سینٹر ہے۔ اور یہ جامعہ کہ سب اچھے اور منفرد ذائقے والے شربتوں کے لیے مشہور بھی ہے۔
جامعہ میں قا ئم ریلیکسی جوس سینٹر جو کہ گذشتہ ١٢سال سے جامعہ کے طلبہ ،اساتذہ اور دیگراسٹاف کے لوگوں کو مختلف پھلوں کے شیک اور جوسس کے جادو میں جکڑا ہوا ہے۔
تھکاوٹ سے چو'ر ،امتحانات کی ٹینشن،گرل فرینڈ کے روٹھنے کا غم،حاضری کم ہونے کے باعث ایڈمٹ کارڈ نہ ملنے کا ڈر ! یا کو ئی بھی پریشانی دور کرنا مقصود ہو تو جامعہ کی عوام اسی جوس سینٹر کا رخ کرتی ہے۔ ایک گلاس ٹھنڈا شیک سب غم دور کر دیتا ہے۔اپنے منفرد اور 'پر لطف ذائقے کے باعث اس جوس سینٹر نے پوری جامعہ میں اپنی مشہوری کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔طاھر صاحب جو اس دکا ن کے مالک ہیں ان سے میں نے سوال کیا کہ آپ کی دکان کی مشہوری کی کیا وجہ ہے؟ جواب دیا ہمیشہ تازہ پھل،بغیر پانی ملا دودھ اور معیاری چیزوں کا استعمال ہی ہماری کامیابی کی وجہ ہے۔اور اسی وجہ سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ آئی۔بی۔اے کے طلبہ بھی ہمارا شیک بہت شوق سے پیتے ہیں۔ساتھ ہی جوسس اور شیک کی جتنی وارائیٹی ہمارے پاس ہے جامعہ میں کسی کے پاس بھی اتنی نہیں۔میںنے کہا طاھر صاحب آپ کے پاس کتنی طرح کے جوسس ہیں؟ بس پھر تو جیسے کسی نے ٹیپ ریکاڈر چلادیا ہو وہ بولے بناناشیک، چیکو شیک،پیچ شیک،مینگو شیک،فالسہ،کینو،موسمی،پائن ایپل،ریڈگریپس،اسٹرابری،کھجور،ایپل،چیری اور تمام موسمی پھلوں کے شیک اور جوسس صرف تیس سے لیکر پیتالیس روپے میں دستیاب ہیں۔
اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا،فوراًہی میں نے کہا کہ ایک گلاس ٹھنڈا بنانا شیک مجھے دیں۔ پینے کے بعد احساس ہوا کہ واقعی جو سنا تھا وہ درست تھا۔روح تروتازہ ہوگئی، اور پھر سمجھ بھی آگیا کہ کیوں اس دکان پے اتنا رش ہوتا ہے۔
سید عون عباس
جامعہ کراچی میں اکثر و بیشتر جب کبھی ٹرمینل کے سامنے سے گزرنا ہوتا تو حیرت ہوتی ،ایک دکان پے اتنا رش دیکھ کر! ایسا لگتا جیسے مفت میں کو ئی چیز بٹ رہی ہو ۔ آخر کار فیصلہ کیا اور پہنچے اس دکان پے تو پتاچلا کہ یہ توجوس اور شیک کی دکان ہے۔اور پھر یاد آگیاکہ جامعہ کراچی میں آنے سے پہلے جس" ٹرمینل کے شیک" کا نام سنا تھا یہ وہی جوس سینٹر ہے۔ اور یہ جامعہ کہ سب اچھے اور منفرد ذائقے والے شربتوں کے لیے مشہور بھی ہے۔
جامعہ میں قا ئم ریلیکسی جوس سینٹر جو کہ گذشتہ ١٢سال سے جامعہ کے طلبہ ،اساتذہ اور دیگراسٹاف کے لوگوں کو مختلف پھلوں کے شیک اور جوسس کے جادو میں جکڑا ہوا ہے۔
تھکاوٹ سے چو'ر ،امتحانات کی ٹینشن،گرل فرینڈ کے روٹھنے کا غم،حاضری کم ہونے کے باعث ایڈمٹ کارڈ نہ ملنے کا ڈر ! یا کو ئی بھی پریشانی دور کرنا مقصود ہو تو جامعہ کی عوام اسی جوس سینٹر کا رخ کرتی ہے۔ ایک گلاس ٹھنڈا شیک سب غم دور کر دیتا ہے۔اپنے منفرد اور 'پر لطف ذائقے کے باعث اس جوس سینٹر نے پوری جامعہ میں اپنی مشہوری کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔طاھر صاحب جو اس دکا ن کے مالک ہیں ان سے میں نے سوال کیا کہ آپ کی دکان کی مشہوری کی کیا وجہ ہے؟ جواب دیا ہمیشہ تازہ پھل،بغیر پانی ملا دودھ اور معیاری چیزوں کا استعمال ہی ہماری کامیابی کی وجہ ہے۔اور اسی وجہ سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ آئی۔بی۔اے کے طلبہ بھی ہمارا شیک بہت شوق سے پیتے ہیں۔ساتھ ہی جوسس اور شیک کی جتنی وارائیٹی ہمارے پاس ہے جامعہ میں کسی کے پاس بھی اتنی نہیں۔میںنے کہا طاھر صاحب آپ کے پاس کتنی طرح کے جوسس ہیں؟ بس پھر تو جیسے کسی نے ٹیپ ریکاڈر چلادیا ہو وہ بولے بناناشیک، چیکو شیک،پیچ شیک،مینگو شیک،فالسہ،کینو،موسمی،پائن ایپل،ریڈگریپس،اسٹرابری،کھجور،ایپل،چیری اور تمام موسمی پھلوں کے شیک اور جوسس صرف تیس سے لیکر پیتالیس روپے میں دستیاب ہیں۔
اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا،فوراًہی میں نے کہا کہ ایک گلاس ٹھنڈا بنانا شیک مجھے دیں۔ پینے کے بعد احساس ہوا کہ واقعی جو سنا تھا وہ درست تھا۔روح تروتازہ ہوگئی، اور پھر سمجھ بھی آگیا کہ کیوں اس دکان پے اتنا رش ہوتا ہے۔
سید عون عباس