Sunday, 30 March 2014

جامعہ کراچی کا مشہور شیک

                                                                " یہ چرچا نہیں ہے،حقیقت ہے"
 جامعہ کراچی میں اکثر و بیشتر جب کبھی ٹرمینل کے سامنے سے گزرنا ہوتا تو حیرت ہوتی ،ایک دکان پے اتنا رش دیکھ کر! ایسا لگتا جیسے مفت میں کو ئی چیز بٹ رہی ہو ۔ آخر کار فیصلہ کیا اور پہنچے اس دکان پے تو پتاچلا کہ یہ توجوس اور شیک کی دکان ہے۔اور پھر یاد آگیاکہ جامعہ کراچی میں آنے سے پہلے جس" ٹرمینل کے شیک" کا نام سنا تھا یہ وہی جوس سینٹر ہے۔ اور یہ جامعہ کہ سب اچھے اور منفرد ذائقے والے شربتوں کے لیے مشہور بھی ہے۔
جامعہ میں قا ئم ریلیکسی جوس سینٹر جو کہ گذشتہ ١٢سال سے جامعہ کے طلبہ ،اساتذہ  اور دیگراسٹاف کے لوگوں کو مختلف پھلوں کے شیک اور جوسس کے جادو میں جکڑا ہوا ہے۔
تھکاوٹ سے چو'ر ،امتحانات کی ٹینشن،گرل فرینڈ کے روٹھنے کا غم،حاضری کم ہونے کے باعث ایڈمٹ کارڈ نہ ملنے کا ڈر !  یا کو ئی بھی پریشانی دور کرنا مقصود ہو تو جامعہ کی عوام اسی جوس سینٹر کا رخ کرتی ہے۔ ایک گلاس ٹھنڈا شیک سب غم دور کر دیتا ہے۔اپنے منفرد اور 'پر لطف ذائقے کے باعث اس جوس سینٹر نے پوری جامعہ میں اپنی مشہوری کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں۔طاھر صاحب جو اس دکا ن کے مالک ہیں ان سے میں نے سوال کیا کہ آپ کی دکان کی مشہوری کی کیا وجہ ہے؟ جواب دیا ہمیشہ تازہ پھل،بغیر پانی ملا دودھ اور معیاری چیزوں کا استعمال ہی ہماری کامیابی کی وجہ ہے۔اور اسی وجہ سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ آئی۔بی۔اے کے طلبہ بھی ہمارا شیک بہت شوق سے پیتے ہیں۔ساتھ ہی  جوسس اور شیک کی جتنی وارائیٹی ہمارے پاس ہے جامعہ میں کسی کے پاس بھی اتنی نہیں۔میںنے کہا طاھر صاحب آپ کے پاس کتنی طرح کے جوسس ہیں؟ بس پھر تو جیسے کسی نے ٹیپ ریکاڈر چلادیا ہو وہ بولے بناناشیک، چیکو شیک،پیچ شیک،مینگو شیک،فالسہ،کینو،موسمی،پائن ایپل،ریڈگریپس،اسٹرابری،کھجور،ایپل،چیری اور تمام موسمی پھلوں کے شیک اور جوسس صرف تیس سے لیکر پیتالیس روپے میں دستیاب ہیں۔
اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا،فوراًہی میں نے کہا کہ ایک گلاس ٹھنڈا بنانا شیک مجھے دیں۔ پینے کے بعد احساس ہوا کہ واقعی جو سنا تھا وہ درست تھا۔روح تروتازہ ہوگئی، اور پھر سمجھ بھی آگیا کہ کیوں اس دکان پے اتنا رش ہوتا ہے۔
                                                        سید عون عباس 

Wednesday, 26 March 2014

عامل بابا (سید عون عباس)

حیدرآباد سے جب کراچی کے اندر داخل ہونے لگئیں تو ہر دیوار پر بے انتہا وال چاکنگ، اشتہارات و تشہیری مہم نظر آنے لگتی ہے اور جیسے جیسے آپ کراچی میں اگے بڑھتے رہیں گے تو یہ اور زیادہ ہو جائے گی چند ملاحضہ فرمائیں
"بہو ساس سے تنگ ہو تو ہم سے رابطہ کرے نام بابا ۔۔۔۔۔۔۔ فون نمبر ۔۔۔۔۔۔۔"
"آپ کی شادی کو دس سال ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد نہیں دی تو ہم سے رابطہ کریں"
"محبوبہ دو دن میں آپ کے قدموں میں اور دو ماہ کے اندر پسند کی شادی ہو جائے گی رابطہ کریں"

ایک نئے نئے صحافی کی حیثیت سے جب آج اس پر غور کیا تو ایسا لگا کہ جب ملک میں رہنے والوں کی تقدیر  یہ عامل بابا ہی بدل سکتے ہیں، تو ساری اقوامِ عالم انہی سے رابطہ کیوں نہیں کرتی ؟؟؟   

Monday, 24 March 2014

کہیں فاقے ۔۔۔۔۔کہیں ہرن کے کوفتے ( سید عون عباس

                                                         کہیں فاقے ۔۔۔۔۔کہیں ہرن کے کوفتے
حکومت سندھ کے دائرہ انتظام میں آنیوالے تھر کی 11لاکھ کی آبادی گزشتہ کئی ماہ سے قحط کا شکار ہے جس کی سچائی پچھلے دو ہفتوں کے دوران ذرائع ابلاغ کے توسط سے عوام تک پہنچی کہ تھر میں قحط کی اصل وجہ کوئی خواراک یا دوسرے وسائل کی کمی نہیںبلکہ یہ حکمرانوں کی بے حسی اور صوبے کے سب سے محروم علاقے سے مجرمانہ لاپرواہی اور تھر کے مفلوج ترین لوگوں کی اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی سکت سے یکسر محرومی میں پڑے رہنے کا رویہ ہے۔اب اس بات کی بھی تصدیق ہوچکی ہے کہ گندم موجود تھی جو ذمہ دار حکام کے حوالے کر دی گئی تھی لیکن فاقہ زدہ متاثرہ خاندانوں میں بانٹی نہیںگئی۔ہمارے حکمرانوں کے لئے شرم کا مقام ہے کہ 11لاکھ کی آبادی قحط میں مبتلا ہو جائے، 300 سے زائد شیر خوار بچے دنیا کے دودھ پیدا کرنے والے 5ویں بڑے ملک اور جملہ اجناس و خوراک میں خودکفیل بلکہ برامد کنندہ پاکستان کے غریب ترین علاقے میں خوراک نہ ملنے کے باعث بھوک سے تڑپ تڑپ کر موت کا شکار ہوگئے۔ایسے میں قابل ستائش ہیں وہ وہ فلاحی ادارے کے جنہوں نے فل فور ان قحط زدہ علاقوں میں فلاحی کام شروع کئے جس میں پاکستان آرمی، رینجرز، بحریہ ٹائون،ایدھی، کے کے ایف،کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی کی ٹیم جے ڈی سی اور دیگر فلاحی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور تاحال کر رہے ہیں۔لیکن اب بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ریلیف ورک کی مزید ضرورت ہے، دوسری جانب ذرائع ابلاغ اور عوام کے جھنجوڑنے پر کراچی سے مٹھی پہنچنے والے سندھ کے بزرگ ترین وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اپنے وزراہ اور دیگر 200ارکان کے ساتھ جب قحط زدہ تھر کے علاقے مٹھی پہنچے تو سائیں کے لئے ہرن کے کوفتے،مچھلی کا سالن،سنگاپوری پلائو،انواع واقسام کے قورمے اور سوئیٹ ڈشزپیش کی گئیںجس کو سب نے سیر ہو کر کھایا۔دوسری جانب دودھ سے محروم بچے مرتے رہے جن کی جانب کسی وزیر یا مشیر نے توجہ نہیں کی۔
5ارب کی لاگت سے سندھ ثقافتی میلے کا نعقاد ہواجس میں لاڑکانہ میں موجود  موہنجوداڑو کے کھنڈرات پر کئی روز تک اچھل کود مچتی رہی جس کو روکنے والا بھلا کون ہوتا؟ سپر مین جو اس پروگرام کو لیڈ کر رہے تھے!ہاں عوام نے یہ ضرور دیکھا کے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب نے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو دبئی طلب کیا اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ قائم علی شاہ ہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔کیا پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ نظر نہیں آرہا کہ سندھ کا کیا حال ہو رہا ہے؟ لوگ بھوک و پیاس سے مرتے رہے مگر حکمران اپنی عیاشیوں میں مگن رہے۔ چئیرمین پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ وہ عوام کو ان کا حق دیں اس عوام کو جس نے انھیں اپنے ووٹ کے ذریعے اس مقام تک پہنچایا تاکہ وہ قوم کی خدمت کریںلیکن یہاں عوام کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس دنیا بھر کی مثالیں موجود ہیں کہ جب عوام کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے تو پھر کس طرح انقلاب برپا ہوتا ہے اور حکمرانوں کو ملک چھوڑکر بھاگنا پرتا ہے۔لہذا سندھ حکومت اور حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی عیاشیوں باہر نکلئیں اور عوام کی ہر ممکن مدد کریں۔